نئی دہلی،19؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز)) ایودھیا معاملے پر جلد فیصلہ آنے کے آثاربڑھ گئے ہیں -سپریم کورٹ نے آج تمام فریقوں کے وکلاء سے کہا کہ وہ 18 اکتوبر تک اپنی جرح مکمل کر لیں -ایسے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نومبر کے مہینے میں سپریم کورٹ کیس پر فیصلہ دے گا-6 اگست سے شروع ہوئی اس تاریخی سماعت کا آج 26 واں دن تھا،16 دن ہندو فریق نے دلیلیں رکھی تھیں،جبکہ مسلم فریق اب تک10 دن کی دلیلیں دی ہیں -کل کورٹ نے تمام فریقوں کے وکلاء سے یہ بتانے کو کہا تھا کہ وہ دلیل رکھنے کے لیے کتنا وقت چاہتے ہیں -کورٹ نے کہا تھاکہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس فیصلہ لکھنے کے لیے کتنا وقت ہو گا-کورٹ کا اشارہ صاف طور پر اس بات کی طرف تھا کہ سماعت کررہی 5ججوں کی بنچ کے صدر چیف جسٹس 17 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں -ایسے میں طے نظام کے تحت فیصلہ اس سے پہلے آنا ہے،آج تمام فریقوں کے وکلاء کی جرح میں لگنے والے وقت کی معلومات ملنے کے بعد کورٹ نے اسے18 اکتوبر تک مکمل کرنے کے لئے کہہ دیا-ایسے میں اس کے پاس فیصلہ دینے کے لئے تقریباً1ماہ کا وقت ہوگا-کل کورٹ کی جانب سے تمام فریقوں کے وکلاء سے پوچھے گئے سوال کا جواب سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیش سینئر وکیل راجیو دھون نے دیا-انہوں نے کہاہے کہ مسلم فریق اگلے ہفتے کے آخر تک دلیلیں رکھناچاہتاہے،ہمیں رام للا براجمان کی طرف سے معلومات ملی ہیں کہ وہ2 دن تک ہماری دلیلوں کا جواب دے گا-نرموہی اکھاڑے نے جواب دینے کے لیے وقت کے بارے میں ابھی نہیں بتایا ہے،دونوں کا جواب آنے کے بعد ہم ایک سے ڈیڑھ دن تک دوبارہ ان کی باتوں پرجواب دیں گے -وکلاء کی جانب سے رکھے گئے اس شیڈول پر ججوں نے آپس میں بحث کی،پھر کہاکہ ہمیں لگتا ہے کہ18 اکتوبر تک بحث اور جواب کا عمل مکمل ہو سکتا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ تمام مل کر اس بات کی کوشش کریں کہ اس حد میں بحث ختم ہو جائے،تاکہ کورٹ کو فیصلے کے لیے کافی وقت مل سکے،اگر ضرورت پڑی تو ہم روزانہ ایک گھنٹہ اضافی سماعت کے لیے تیار ہیں،سماعت ہفتہ کو بھی کی جا سکتی ہے-کورٹ نے معاملے کی ثالثی کے لئے بنائی کمیٹی کی جانب سے بھیجی گئیں معلومات پربھی بات کی-کہاکہ ہمیں معلومات دی گئی ہیں کہ کچھ فریق ثالثی کاعمل جاری رکھنا چاہتے ہیں،اگرکوئی فریق کورٹ سے باہر حل نکالنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے تو کوشش ہو سکتی ہے لیکن کیس کی عدالت میں چل رہی سماعت کافی آگے بڑھ چکی ہے،اسے روکا نہیں جائے گا،اگر ثالثی ہوتی ہے تو اسے خفیہ رکھا جائے،عمل سے جو بھی حاصل ہواہو، اس کی اطلاع کورٹ کو دی جائے-چیف جسٹس گگوئی کے اس بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس معاملہ پر اب سماعت اور ثالثی ساتھ ساتھ چلیں گی- ثالثی کی بات اچانک سامنے آنے سے سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں - کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس و بی جے پی کے لئے اچانک جمعیۃعلماء ہند کے دونو ں دھڑوں کے رہنماؤں کے دلوں میں جو نرم گوشہ پیدا ہوا اس کی وجہ ایودھیا تنازعہ حل ہو سکتا ہے- واضح رہے کہ30اگست کو مولانا ارشد مدنی کی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے دہلی کے کیشو کنج میں ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد ان کے بھتیجے اور جمعیۃ کے دوسرے دھڑے کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اس ملاقات کا استقبال کیا تھا- مولانا ارشد نے اپنی اس ملاقات کے بعد واضح طور پر اس بات سے انکار کیا تھا کہ بابری مسجد کے تعلق سے ان کی کوئی بات ہوئی ہے- اس سے قبل آر ایس ایس کے سینئر رہنما اندریش کمار بھی دیوبند گئے تھے اور دارالعلوم کے مہتمم سے بھی ملاقات کی تھی- کچھ ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ثالثی کا جو عمل ختم ہوا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جمعیۃ علماء اور وشو ہندو پریشد اپنے موقف پر اڑے ہوئے تھے اور دونوں اپنے موقف میں کوئی لچک نہیں پیدا کر رہے تھے-